17 ستمبر 2010 - 19:30

سعودی عرب کی جیلوں میں 9 شیعہ مسلمان چودہ برسوں سے بغیر کسی جرم کے قید وبند کی صعوبتیں جھیل رہے ہیں۔

العالم کی رپورٹ کے مطابق شہر الخبر میں 1996 میں امریکی فوجی اڈے میں بم دھماکوں کے بعد سعودی پولیس نے اس واقعے پر پردہ ڈالنے کےلئے نوشیعہ مسلمانوں کو گرفتار کرکے قید میں ڈال دیاتھا جو 14 سال سے پابند سلاسل ہیں۔  العالم کی رپورٹ کے مطابق ان 9 شیعہ مسلمانوں کے 14 برسوں سے قید میں رہنے کے باوجود سعودی حکومت  ان پر آج تک کوئي الزام نہیں لگا سکی ہے اور نہ ہی ان پر کوئي مقدمہ دائر کیا ہے۔ سعودی حکومت نے ان 9 شیعہ قیدیوں کو وکیل کی خدمات حاصل کرنے کی بھی اجازت نہیں دی ہے۔ قابل ذکر ہے امریکی نیوز ایجنسی آئي پی ایس نے 2009 میں امریکی ایف بی آئي اور سعودی انٹیلجنس کی سازش سے پردہ اٹھایا تھا کہ امریکہ اور سعودی عرب نے الخبر بم دھماکوں کے حقیقی مجرموں کو بچانے کی کوشش کی ہے کیونکہ ان میں بعض مجرم القاعدہ سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کے سعودی حکومت کے ساتھ بڑے گہرے روابط ہیں۔

۔۔۔۔۔۔

/110